مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کرے تو ایران بھی اپنے تمام وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل کرے گا، تاہم ملکی دفاع کے معاملے میں ایران کا ردعمل فیصلہ کن ہوگا۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ افہام و تفہیم دو طرفہ عمل ہے۔ اگر امریکی فریق مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ہم بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے بنیاد دھمکیوں اور غیر معقول رویوں کے مقابلے میں ہمارا طریقۂ کار عقل، تدبر اور انسانی وقار پر مبنی ہے، لیکن جب عملی اقدام اور دفاع کی بات آئے گی تو ہمارا جواب مضبوط، جرات مندانہ اور فیصلہ کن ہوگا۔
صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ دنوں فوجی جھڑپوں کے باعث 18 جون کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایران کے مطابق، حالیہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں سپاہ پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ